Back to Design Blog
GuidesI Love Urdu Guide

اردو شاعری کی اقسام اور لکھنے کے اصول: غزل، نظم، ردیف اور قافیہ کی مکمل رہنمائی

T
I Love Urdu ٹیمJuly 13, 202610 min read

اردو شاعری صرف الفاظ کو ترتیب دینے کا نام نہیں۔ اس کے پیچھے صدیوں پرانے اصول ہیں جو بتاتے ہیں کہ کون سا شعر غزل بنے گا، کون سا نظم، اور کون سا مثنوی۔ اگر آپ نئے شاعر ہیں اور سمجھنا چاہتے ہیں کہ اردو شاعری کی اقسام کیا ہیں، ردیف اور قافیہ کا فرق کیا ہے، اور اشعار میں الفاظ کو کیسے متوازن کیا جاتا ہے، تو یہ آرٹیکل آپ کے لیے ہے۔ ہر بات کی مثال اردو کے کلاسیکی شعرا کے اصل اشعار سے دی گئی ہے تاکہ نظریہ خالی نہ رہے۔

اس آرٹیکل میں کیا کچھ ہے

  • شاعری کی بنیادی اصطلاحات: شعر، مصرع، بیت، مطلع، مقطع
  • اردو شاعری کی اقسام یعنی اصنافِ سخن
  • ردیف اور قافیہ کی تعریف اور اصل اشعار سے مثالیں
  • الفاظ کو ردیف قافیہ کے ساتھ متوازن کرنے کا طریقہ
  • بحر اور وزن کا بنیادی تعارف
  • نئے شاعروں کی عام غلطیاں

شاعری کی بنیادی اصطلاحات پہلے سمجھ لیں

اصناف اور قافیہ کی بات کرنے سے پہلے چند لفظ سمجھ لینا ضروری ہے، ورنہ آگے چل کر الجھن ہوگی۔

شعر کی ایک لائن کو مصرع کہتے ہیں۔ دو مصرعے مل کر ایک شعر بنتا ہے۔ غزل کے سارے اشعار کو مجموعی طور پر ابیات کہا جاتا ہے اور ہر ایک شعر کو بیت۔

غزل کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعوں میں ایک جیسا قافیہ اور ردیف ہو، اسے مطلع کہتے ہیں۔ اگر غزل میں اس طرح کا دوسرا شعر بھی آ جائے تو اسے حسنِ مطلع یا مطلعِ ثانی کہا جاتا ہے۔

غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا قلمی نام یعنی تخلص استعمال کرتا ہے، اسے مقطع کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر مرزا محمد رفیع نے اپنے لیے تخلص "سودا" رکھا تھا، اور غالب، میر، اقبال بھی دراصل تخلص ہی ہیں۔

غزل کا سب سے عمدہ اور مشہور شعر شاہ بیت یا بیت الغزل کہلاتا ہے۔ یہ اصطلاحات یاد رہیں تو آگے کا مواد آسانی سے سمجھ آئے گا۔

اردو شاعری کی اقسام یعنی اصنافِ سخن

اردو ادب کو دو بڑے حصوں میں بانٹا جاتا ہے: نثر اور نظم۔ نظم کے تحت شاعری کی جتنی بھی شکلیں آتی ہیں انہیں اصنافِ سخن کہا جاتا ہے۔ ان میں سے چند سب سے اہم اقسام یہ ہیں۔

غزل

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ ہر شعر اپنی جگہ ایک مکمل اور آزاد خیال رکھتا ہے۔ ایک شعر میں شاعر عشق کی بات کر رہا ہو تو اگلے شعر میں موضوع بالکل بدل سکتا ہے، اور یہ کوئی نقص نہیں بلکہ غزل کی پہچان ہے۔ میرؔ نے غزل کو موتیوں کی لڑی سے تشبیہ دی تھی، جہاں ہر موتی اپنی جگہ الگ اور مکمل ہوتا ہے۔ غزل کے تمام اشعار ایک ہی بحر میں ہوتے ہیں اور مطلع کے بعد ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں قافیہ اور ردیف دہرائے جاتے ہیں۔ غالب، میر، مومن اور داغ دہلوی کو غزل کے بڑے ناموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

نظم

نظم کا دائرہ غزل سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ غزل کے برعکس نظم میں ایک ہی موضوع پر بات مکمل کی جاتی ہے، اور شاعر شروع سے آخر تک اسی خیال کو نبھاتا ہے۔ نظم کی لمبائی مقرر نہیں، یہ دو مصرعوں کی بھی ہو سکتی ہے اور مثنوی جتنی طویل بھی۔ نظیر اکبر آبادی کو اردو نظم کا بانی سمجھا جاتا ہے، جنہوں نے عام زندگی کے موضوعات پر لکھا۔ بعد میں اقبال، فیض احمد فیض، ن م راشد اور جوش ملیح آبادی نے اس صنف کو نئی جہتیں دیں۔ نظم کی بھی مزید تین قسمیں ہیں۔ پابند نظم بحر اور قافیہ دونوں کی پابند ہوتی ہے۔ نظمِ معریٰ میں بحر کی پابندی رہتی ہے مگر قافیہ ضروری نہیں۔ آزاد نظم میں نہ بحر کی سختی ہوتی ہے نہ قافیہ کی، صرف ایک اندرونی ردھم برقرار رکھا جاتا ہے۔

مثنوی

مثنوی میں لمبی داستانیں شعر کی صورت میں بیان کی جاتی ہیں، عموماً عشقیہ یا واقعاتی موضوعات پر۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ ہر شعر کے دونوں مصرعوں کا الگ الگ قافیہ ہوتا ہے، یعنی ہر شعر کا اپنا مستقل قافیہ بدلتا رہتا ہے۔ اردو کی پہلی مثنوی "کدم راؤ پدم راؤ" مانی جاتی ہے۔ میر حسن کی "سحر البیان" اور دیا شنکر نسیم کی "گلزار نسیم" اس صنف کی مشہور مثالیں ہیں۔

قصیدہ

قصیدہ ہیئت کے اعتبار سے غزل سے ملتا ہے، یعنی اس کا آغاز بھی مطلع سے ہوتا ہے اور بحر شروع سے آخر تک ایک ہی رہتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ قصیدے میں کسی شخصیت، بادشاہ یا موضوع کی مدح یا تعریف کی جاتی ہے۔ اس میں ردیف کا ہونا ضروری نہیں۔ مرزا رفیع سودا کو اردو کا سب سے بڑا قصیدہ گو شاعر مانا جاتا ہے۔

مرثیہ

مرثیہ وہ صنف ہے جس میں کسی کے انتقال پر دکھ اور اس کی خوبیوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اردو میں یہ صنف خاص طور پر امام حسین اور واقعہ کربلا کے بیان سے جڑی ہے۔ میر انیس اور مرزا دبیر اس میدان کے سب سے بڑے نام ہیں۔

رباعی

رباعی صرف چار مصرعوں کی مختصر نظم ہے جس میں ایک مکمل خیال بند کر دیا جاتا ہے۔ اس کا وزن مخصوص چوبیس اوزان میں سے کسی ایک پر ہوتا ہے۔ پہلے، دوسرے اور چوتھے مصرعے میں قافیہ لانا ضروری ہے، تیسرے مصرعے میں قافیہ لازمی نہیں مگر اگر آ جائے تو کوئی حرج نہیں۔ رباعی کا پورا اثر آخری یعنی چوتھے مصرعے پر ٹکا ہوتا ہے، اسی لیے شاعر اسے سب سے زیادہ توجہ سے تراشتے ہیں۔

قطعہ

قطعہ کم از کم دو اشعار پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد مقرر نہیں۔ اس میں مطلع کی پابندی نہیں ہوتی، یعنی پہلا شعر قافیہ ردیف کے بغیر بھی آ سکتا ہے، مگر ہر شعر کا دوسرا مصرع قافیہ اور ردیف سے مزین ہونا لازمی ہے۔ قطعہ کا ہر شعر پچھلے شعر سے موضوعاتی طور پر جڑا رہتا ہے، جو اسے غزل سے الگ کرتا ہے۔

حمد، نعت، منقبت اور مناجات

یہ چاروں مذہبی موضوعات سے جڑی اصناف ہیں۔ حمد میں اللہ کی تعریف بیان کی جاتی ہے، نعت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اشعار کہے جاتے ہیں، منقبت صحابہ کرام اور بزرگانِ دین کی مدح میں لکھی جاتی ہے، اور مناجات میں شاعر اللہ سے براہ راست دعا اور التجا کرتا ہے۔

ردیف اور قافیہ کیا ہیں؟

یہ وہ حصہ ہے جہاں زیادہ تر نئے شاعر الجھتے ہیں۔ آسان زبان میں سمجھیں تو قافیہ اور ردیف دونوں مل کر شعر کے آخر میں ایک موسیقی جیسا اثر پیدا کرتے ہیں، مگر دونوں کا کام الگ ہے۔

قافیہ

قافیہ وہ الفاظ ہیں جو آواز میں ملتے جلتے ہوں مگر اصل میں الگ الگ لفظ ہوں۔ غالب کے اس مشہور شعر میں دیکھیں:

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

یہاں "ہوا" اور "دوا" قافیہ ہیں۔ دونوں الفاظ مختلف ہیں مگر ان کی آخری آواز ایک جیسی ہے۔ اسی مشترک آخری آواز کو حرفِ روی کہا جاتا ہے، یہاں یہ حرف "و ا" ہے۔

ردیف

ردیف وہ لفظ یا الفاظ ہیں جو قافیہ کے بالکل بعد آتے ہیں اور ہر شعر میں جوں کے توں دہرائے جاتے ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے۔ اوپر والے شعر میں "کیا ہے" ردیف ہے۔ ردیف کا ہونا ضروری نہیں، بہت سی مشہور غزلیں بغیر ردیف کے بھی ہیں، مگر جس غزل میں ردیف موجود ہو اسے مردف غزل کہتے ہیں۔

ایک اور مثال، غالب ہی کا یہ شعر دیکھیں:

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

یہاں دونوں مصرعوں کے آخر میں لفظ "کا" ردیف ہے، جبکہ "تحریر" اور "تصویر" قافیہ ہیں۔ غور کریں کہ قافیہ ہمیشہ ردیف سے پہلے آتا ہے۔

اقبال کے اس شعر میں ردیف تھوڑی لمبی ہے:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

یہاں "جہاں" اور "امتحاں" قافیہ ہیں، اور "اور بھی ہیں" ردیف ہے۔ اس مثال سے ایک بات صاف ہوتی ہے کہ ردیف ایک سے زیادہ الفاظ پر بھی مشتمل ہو سکتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ وہ ہر شعر میں بالکل ایک جیسی رہے۔

ردیف اور قافیہ میں فرق ایک نظر میں

قافیہ ہر شعر میں بدلتا رہتا ہے مگر آواز کی مناسبت سے ایک دوسرے سے ملتا رہتا ہے۔ ردیف بدلتا نہیں، وہ ٹھیک وہی لفظ ہوتا ہے جو دہرایا جائے۔ قافیہ لازمی ہے، اس کے بغیر شعر ہی نہیں بنتا، جبکہ ردیف اختیاری ہے۔

الفاظ کو ردیف اور قافیہ میں کیسے متوازن کریں

شعر کہنے کا عملی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مطلع کا شعر کہا جائے، کیونکہ یہی پوری غزل کا ڈھانچہ طے کرتا ہے۔ اس کے بعد تین چیزیں طے ہو جاتی ہیں۔

پہلی چیز بحر ہے، یعنی وہ وزن جس پر غزل کا ہر مصرع پورا اترے گا۔ دوسری چیز حرفِ روی ہے، یعنی وہ آخری اصل آواز جس پر تمام قوافی بنیں گے۔ تیسری چیز ردیف ہے، اگر آپ ردیف کے ساتھ غزل کہنا چاہتے ہیں تو وہ لفظ یا الفاظ بھی مطلع میں ہی طے ہو جاتے ہیں۔

اس کے بعد ہر اگلے شعر میں یہ خیال رکھنا ہوتا ہے کہ ردیف بالکل جوں کی توں دہرائی جائے اور نیا قافیہ اسی حرفِ روی کے مطابق چنا جائے۔ مثال کے طور پر اگر مطلع میں حرفِ روی "ن" ہے اور قوافی وطن، سخن، چمن جیسے الفاظ سے بنائے گئے ہیں، تو باقی غزل میں بھی بدن، کفن، لگن جیسے ہم آواز الفاظ ہی قافیہ بن سکتے ہیں، الگ آواز کا کوئی لفظ نہیں۔

قافیہ چننے میں دو باتوں کا خاص خیال رکھیں۔ لفظ کا مطلب شعر کے مضمون سے میل کھانا چاہیے، صرف آواز ملانے کے لیے کوئی بھی لفظ ٹھونس دینا شعر کا حسن ختم کر دیتا ہے۔ اور دوسری بات، ایک ہی قافیہ پوری غزل میں دہرایا نہیں جانا چاہیے، ہر شعر کا قافیہ نیا ہونا چاہیے چاہے آواز ایک جیسی ہی کیوں نہ ہو۔

بحر اور وزن، شاعری کا اندرونی ردھم

قافیہ اور ردیف تو شعر کے آخر کی بات ہے، مگر پورے شعر کو یکساں چال میں رکھنے کا کام بحر کرتی ہے۔ بحر دراصل مخصوص عروضی ارکان کی تکرار سے بنتی ہے، جیسے فاعلاتن یا مفاعیلن جیسے وزنی سانچے۔ جب کسی مصرعے کے الفاظ کو ان سانچوں کے مطابق تولا جاتا ہے تو اس عمل کو تقطیع کہتے ہیں۔

اردو میں شاعر خود بھی الفاظ کی گنتی کر کے وزن پرکھ سکتا ہے، اور آج کل آن لائن تقطیع کے اوزار بھی دستیاب ہیں جو مصرعے کی بحر بتا دیتے ہیں۔ نئے شاعروں کے لیے بہتر ہے کہ عام فہم اور معروف بحروں میں لکھنا شروع کریں، کیونکہ مشکل اور نادر بحریں سیکھنے میں وقت لیتی ہیں اور اکثر روانی خراب کر دیتی ہیں۔

نئے شاعروں کی عام غلطیاں

سب سے پہلی غلطی یہ ہے کہ صرف آواز ملانے کے چکر میں ایسا لفظ چن لیا جائے جو حرفِ روی سے میل نہیں کھاتا۔ اسے قریب المخارج قافیہ کہتے ہیں اور روایتی اساتذہ اسے عیب سمجھتے ہیں، جیسے "ت" کے مقابل "تھ" لانا۔

دوسری غلطی ردیف کا ٹوٹنا ہے۔ ایک بار جو ردیف مطلع میں طے ہو جائے، وہ لفظ بہ لفظ ہر شعر میں دہرانا ضروری ہے۔ اگر ایک شعر میں "ہے مجھے" اور دوسرے میں "ہوں میں" جیسے قریب مگر مختلف الفاظ آ جائیں تو یہ عیب سمجھا جاتا ہے۔

تیسری غلطی بحر کا ٹوٹنا ہے۔ اگر مطلع کسی خاص وزن میں کہا گیا ہے تو غزل کا ہر مصرع اسی وزن پر پورا اترنا چاہیے۔ ایک آدھ مصرع بحر سے باہر ہونا پوری غزل کی موسیقی خراب کر دیتا ہے۔

اختتامیہ

اردو شاعری کی ہر صنف کا اپنا مزاج اور اپنے اصول ہیں، مگر ان سب کی بنیاد ایک ہی جگہ سے شروع ہوتی ہے: بحر، ردیف اور قافیہ کا صحیح توازن۔ غالب اور اقبال کے اوپر دیے گئے اشعار پڑھ کر خود تقطیع کرنے کی کوشش کریں، اور اپنی زبان کے سادہ الفاظ کے ساتھ ایک مطلع کہنے کی مشق کریں۔ باقی سب مشق سے آ جاتا ہے۔

* * *

اکثر پوچھے گئے سوالات

ردیف کے بغیر غزل ممکن ہے؟

جی ہاں۔ ردیف اختیاری ہے۔ بہت سی مشہور غزلیں بغیر ردیف کے ہیں، صرف قافیہ ہی شعر کے لیے لازمی ہے۔

غزل اور نظم میں بنیادی فرق کیا ہے؟

غزل کا ہر شعر آزاد اور مکمل خیال ہوتا ہے جبکہ نظم کے تمام اشعار ایک ہی موضوع کو آخر تک نبھاتے ہیں۔

مطلع اور مقطع میں کیا فرق ہے؟

مطلع غزل کا پہلا شعر ہے جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں، جبکہ مقطع آخری شعر ہے جس میں شاعر اپنا تخلص لاتا ہے۔

بحر جانے بغیر شعر کہا جا سکتا ہے؟

ابتدا میں بہت سے شاعر ذوق اور کان کی مدد سے وزن پرکھتے ہیں، مگر بحر کی بنیادی سمجھ ہونے سے غلطیاں کم ہوتی ہیں اور شعر زیادہ رواں بنتا ہے۔

* * *

I Love Urdu کے کلاؤڈ کینوس پر اپنی شاعری لکھیں اور خوبصورت کارڈز بنائیں

مہنگے سافٹ ویئرز اور ڈاؤنلوڈز سے نجات حاصل کریں۔ I Love Urdu کے فری ایڈیٹر میں اپنی غزلیں اور نظمیں ٹائپ کریں، پس منظر تبدیل کریں، اور ہائی کوالٹی امیج یا پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ کریں۔

شاعری ایڈیٹر کھولیں (Open Poetry Designer)
#urdu poetry rules#shairi likhne ka tarika#radeef aur qafia#ghazal aur nazm#urdu poetry guide